بھٹکل 17/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) گذشتہ ہفتہ جب سے مرکزی حکومت نے کالا دھن ختم کرنے کے نام پر 500اور 1000کے نوٹوں کو کالعدم قرار دیا ہے ملک بھر میں اب تک 34 لوگوں کی موت واقع ہوچکی ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ طورپر ان اموات کا تعلق اچانک نوٹوں کو کالعدم قراردئیے جانےسے ہوئی ہیں۔ ان میں چند ایک کی موت فوری صدمےیا جھٹکے سے ہونے کا متاثرہ خاندان والوں نے الزام لگایا ہے، اور بعض ایک لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے ہونے کے نتیجے میں غش کھا کر گرنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال سے نوٹوں کے غیرقانونی معاملے کو لے کر خودکشی اور قتل کرنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تلنگانہ میں مبینہ طور پر نوٹ بندي کے چلتے ایک کسان کی زمین کی قیمت گرنے سے، مستقبل کی فکر میں کسان نے خاندان سمیت زہر کھانے کی بھی واردات پیش آئی ہے، جبکہ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے پیسے نکالنے بینک پہنچے ایک شخص کی دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہونے کی بھی خبر موصول ہوئی ہے۔
پرانے نوٹوں کو بدلوانے اور نئے نوٹوں کو حاصل کرنے کےچکرمیں کتنے لوگ زخمی ہیں اور اسپتالوں میں مریضوں کو بچانے کے لئے نئے نوٹ نہ ملنے سے مزید کتنے لوگ پریشانی کے عالم میں دن گذار رہے ہیں، اُس کی تفصیل جمع کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ البتہ ملک بھر میں جمعرات کو بھی نوٹ ایکسچینج کے لئے اےٹی ایم، بینک اور پوسٹ آفس کے باہر لمبی لمبی قطاروں کا سلسلہ جاری ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، یوپی میں 10، مدھیہ پردیش میں 3، بہار میں 2، کیرلا 2، کرناٹک میں 2، تلنگانہ میں 2، دہلی میں 1، گجرات میں 3 اور مہاراشٹر میں 2 لوگوں کی موت ہوئی ہیں. اس کے علاوہ، آسام، پنجاب، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور اڑیسہ میں ایک ایک موت ہوئی ہے۔
پیسہ بدلوانے اور نئے نوٹوں کو حاصل کرنے کی کوشش میں جو اموات ہوئی ہیں، اُس کی تفصیلات ایک دوسرے ذرائع سے بھیملی ہے۔ جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
1۔ چاردن پہلے پنجاب کے ترن تارن کے مکین سکھ دیو سنگھ اس وقت دل کا دورہ پڑنے سے موت کی نیند سوگئے جب ان کے پاس اپنی بیٹی کی شادی کے لئے ضروری سامان خریدنے کے لئے نئے نوٹ دستیاب نہیں تھے۔۔
2۔ اترپردیش کے بلند شہر میں ماں نے اپنے بیٹے کو چھوٹے نوٹوں (کم قیمت والے )کو دینے سے انکارکیا تو 17سالہ بی ایس ایف جوان کے بیٹے نے خود کشی کرلی۔
3۔ اڑیسہ کے سنبھل پور میں ایک 2سالہ بچہ کی اس وقت موت ہوئی جب خاندان والوں کے پاس کم قیمت کے روپئے نہ ہونے کی بنا پر آٹو رکشاڈرائیور نے انہیں اسپتال لے جانے سے انکار کردیا۔
4۔ 75سالہ بزرگ لکشمی نارائن تلنگانہ کے سکندر آباد میں لگاتار 2گھنٹوں تک بینک کی قطار میں کھڑے رہنے کی وجہ سے غش کھا کر گرنے سے ان کی موت ہوگئی۔
5۔ ریاست بہار کے اورنگ آباد میں بھی ایک بزرگ شہری سریندر شرما اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ بینک کی قطار میں اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔
6۔ مدھیہ پردیش کے چھتارپور ضلع کے ہلکے لودھی نامی کسان کو جب اپنے کھیت کے لئے کھاد اور بیج خریدنے کے لئے رقم نہیں تھی تو خود کشی کرلی ۔
7۔ میرٹھ کے فیکٹری ملازم 60سالہ عزیز انصاری بینک کے باہر انتظارکرتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔
8۔ مشرقی اترپردیش کے جالون نامی شہر میں ایک موظف استاد رگھو ناتھ ورما (70) بینک کے باہر انتظارکرتے ہوئے مرگئے ۔ جب کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کی بات چیت کے لئے بینک سے رقم لانے کے لئے پہنچے تھے۔
9۔ بلند شہر کے اسپتال میں ایک بچہ اس لئے مرگیا کہ اس کے والدین کے پاس صرف پرانے نوٹ تھے۔
10۔ شمال مشرقی دہلی میں24سالہ جوان لڑکی رضوانہ3 دنوں سے نوٹ تبدیل نہ کرسکنے کی بناء پر خودکشی کرلی ۔
11۔اپنے گھروالوں کے لئے سامان نہ خرید سکنے کی وجہ سے سورت کی 50سالہ عورت نے خود کشی کرلی ۔
12۔اترپردیش کے شاملی شہر کی 20سالہ شبانہ نے اس وقت خود کشی کرلی جب اس کا بھائی نوٹ تبدیل کئے بغیر ہی واپس گھرلوٹا۔
13۔ کرناٹکا کے چک بلاپور ضلع کی ایک ادھیڑ عمر کی عورت پرانے 15000ہزارروپئے کے نوٹ لے کر بینک پہنچی ، الزام لگایا جارہاہے کہ وہاں اس کی رقم گم ہوگئی یا چوری ہوگئی تو صدمہ نہ سہتے ہوئے خود کشی کرلی۔
14۔ تمل ناڈو میں پھنسے ہوئے اپنے بچوں کو بھیجنے کےلئے چھتیش گڑھ کے ضلع رائے گڑھ کا ایک کسان 3000روپئے کی پرانی کرنسی تبدیل کرنے کی غرض سے بینک پہنچا ، لیکن کرنسی تبدیل نہیں کرپایا تو خودکشی کرلی۔
15۔ گجرات کے لمبڑی میں 69سالہ بوڑھا شخص نوٹ تبدیل کرنے بینک کی قطار میں کھڑااپنی باری کا انتظار کررہا تھا ، وہیں گرگیا، اور دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی ۔
16۔ کانپور میں ایک بوڑھی عورت نوٹوں کو گنتے ہوئے ہلاک ہوگئی ۔
17۔ کانپور کا ہی ایک شخص اپنی زمین فروخت کرنے کے لئے خریدار سے اڈوانس میں 70لاکھ روپئے لئے تھے۔ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ ان نوٹوں کو کالعدم قراردیا گیا ہے، تو اُسی وقت دل کا دورہ پڑا اور ہلاک ہوگئے۔
18۔ ممبئی میں ایک نومولود مریض بچہ اس وقت ہلاک ہوگیا جب اس کے والدین کے پاس نئے نوٹ نہیں تھے تو اسپتال والوں نے بچہ کو اسپتال میں داخل کرنےسے انکار کردیا ۔
19۔ وشاکھا پٹنم میں والدین نے پرانے نوٹوں سے اپنے بچے کے لئے پرائیویٹ اسپتال سے دوائیاں خریدنے کے لئے پہنچے لیکن وہاں پرانے نوٹوں کو لینے سے انکارکئے جانے کے نتیجے میں ان کا 18ماہ کا بچہ فوت ہوگیا۔
20۔ اترپردیش کے مین پوری میں ایک سالہ بچہ شدت بخار میں مبتلا تھا۔ والدین نے 100کے نوٹ لانے کے لئے بھاگ دوڑ کی تو ڈاکٹروں نے علاج روک دیا اس دوران بچے نے آخری سانس لی۔
21۔ اپنے نومولود بچے کو اسپتال لے جانے کے لئے والدنے وقت پر 100روپئے کے نوٹس مہیا نہیں کرپائے تو ایمبولنس نے بچہ کو اسپتال لے جانے سے انکارکردیا اور راجستھان کے پالی ضلع کا یہ بچہ اسپتال نہ پہنچ پانے سے وہیں پر ہی موت کی نیند سوگیا۔
22۔ اترپردیش کے خوشی نگر کی 40 سالہ دھوبن کو جب یہ اطلاع ملی کہ بینک 1000ہزارروپئے کے نوٹ نہیں لے رہےہیں تو صدمے سے ہلاک ہوگئی ۔
23۔ تلنگانہ کے ضلع مہو آباد کی 55سالہ خانہ آبادی عورت اس وقت ہلاک ہوگئی جب اس کو معلوم ہوا کہ اس کے جمع کئے ہوئے 54لاکھ روپئے کسی کام کے نہیں ہیں۔
24۔ مغربی بنگال کے ہورا میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کا صرف اس لئے قتل کیا کہ اس کی بیوی اے ٹی ایم سے خالی ہاتھ واپس لوٹی تھی۔
25۔ بہار کے کیمور نامی ضلع میں 45 سالہ شخص اس خوف میں مبتلا ہوگیا کہ اس کے بیٹی کے سسرال والے جہیز کے روپ میں پرانی کرنسیوں کو نہیں لیں گے ، اسی دوران زبردست ہارٹ اٹیک سے اس کی موت ہوگئی ۔
26۔ اپنے 5لاکھ روپئے بینک میں جمع کرنے کے لئے کیرلا کے تھلسیری بینک پہنچا 45 سالہ شخص دوسری منزل پر ڈپازٹ کی رسید لکھنے کے دوران نیچے گر کر ہلاک ہوگیا۔
27۔ اپنے پرانے نوٹوں کو بینک میں جمع کرنے 72سالہ بوڑھا ممبئی کی ایک بینک پہنچ کر قطار میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑا تھا تو دل کادورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا۔
28۔ گجرات کے تاراپور میں 47 سالہ کسان اپنے نوٹوں کو بدلنے کے لئے قطار میں کھڑا انتظارکررہاتھا تو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وہیں موت کی نیند سوگیا۔
29۔ تقریباً1گھنٹے تک بینک کے باہر قطار میں کھڑے رہنے سے 75سالہ معمر آدمی گرکر ہلاک ہونے کی اطلاع کیرلا کے الپوزا سے موصول ہوئی ۔
30۔ کرناٹکا کے ضلع اُڈپی میں ایک 96 سالہ بزرگ کی بینک کے باہر قطار میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑے رہنے کے دوران موت ہوگئی ۔ جب کہ ابھی بینک کھلنےمیں وقت تھا۔
31۔ مدھیہ پردیش کے ساگر میں اپنے نوٹوں کوبدلنےکے لئے 69 سالہ بی ایس این ایل کے موظف ملازم بینک کے باہر قطار میں کھڑے رہنے کے دوران ہلاک ہوگئے۔
32۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا بھوپال شاخ کے کیشئیر ہارٹ اٹیک سےہلاک ہوگئے۔
33۔ وزیرا عظم کے نوٹوں کو کالعدم قرار دئیے جانےکے بھاشن کو سننےکے فوری بعد اترپردیش کے فیض آباد کا ایک تاجر سینےمیں در د ہونے کے بہانے موت کی نیند سوگیا۔
34۔ دہلی کےہائوز قاضی میں سعدالرحمن نامی شخص رقم تبدیل کرنے کے لئے مسلسل تین دنوں سے کوشش کررہا تھا کہ بدھ کی صبح اسی کوشش میں جان سے ہاتھ دو بیٹھا۔
بتایا جارہا ہے کہ کم از کم اگلے دو مہینوں تک بینکوں کے باہر اسی طرح کی صورتحال رہے گی، لوگوں کو اپنا تمام کام کاج چھوڑ کر بینکوں کے باہر قطاروں میں ہی لگے رہنا ہوگا، ایسی خراب صورتحال سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ رقم بدلوانے اور بینکوں سے رقم نکلوانے کے دوران مزید اموات ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بینکوں کے باہر لمبی قطاروں میں عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا، پولس کے ساتھ جھڑپیں اور کچھ جگہوں پر پولس کا لاٹھی چارج وغیرہ بھی ہوئی ہیں اورسمجھا جارہاہے کہ بینکوں میں جب تک زائد کائونٹرس نصب کرتے ہوئے پرانے نوٹوں کی تبدیلی کے کام میں تیزی نہیں لائی جائے گی اور زائد اے ٹی ایم کے ذریعے رقموں کو بینکوں سے نکلوانے کے لئے عوام کو فوری طور پر سہولت فراہم نہیں کی جائے گی تو حالات جو پہلے ہی بے حد خراب ہیں مزید بدتر ہوجائیں گے۔